ابنا:عراق کے عوام کے مختلف گروہوں نے ملک کے موجودہ حساس حالات کو درک کرتے ہوئے، دھشتگرد گروہ داعش کے خلاف ملک کی مسلح افواج کی کاروائیوں کی حمایت کے ساتھ، عراق کی ارضی حاکمیت کے دفاع کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کرلیا ہے اور فوج کے شانہ بہ شانہ دھشتگردوں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ عراق کے اخبارات نے لکھا ہے کہ عراق کے صوبے بابل کے پانچ ہزار باشندوں نے نینوا ، صلاح الدین اور کرکوک صوبوں میں فوج کے ساتھ ہم رکاب ہونے کے لئے اپنے نام فوجی چھاؤنیوں میں درج کروائے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی احکام نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات 12 جون سے لیکر اب تک فوجی مراکز میں ہزاروں عراقیوں نے دھشتگردوں کے ساتھ مقابلے کے لئے، اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق عراق کے مختلف شہروں کے عوام نے حکومت سے دھشتگرد گرد تکفیری گروہ داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے ہتھیار ساتھ لیکر چلنے کی درخواست کی ہے۔ عراق کے صوبے بابل میں عوامی حمایت کے ساتھ فوج کا آپریشن ایسی صورت حال میں جاری ہےکہ صوبے بصرہ میں بھی 13 ہزار سے زیادہ افراد نے رضاکارانہ طور پر سیکیورٹی فورسز کے لئے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ ادھر عراق کے وزیر اعظم نوری مالکی نے بھی ملک بھر میں دھشتگردوں کے خلاف مہم میں عوام کو شرکت کی دعوت دی ہے اور عراق کے سات صوبوں کے گورنز نے بھی اپنے ایک اجلاس میں عراق کی مرکزی حکومت اور فوج کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ گذشتہ تین دنوں میں عراق کے صوبے واسط میں سات ہزار سے زیادہ افراد نے دھشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ میں حصے لینے کے لئے اپنے نام فوجی مراکز میں درج کروائے ہیں۔ عراق میں دھشتگردوں کے خلاف عوامی رائے عامہ ہموار ہوچکی ہے اور عراق کے قبائل و گروہ منجملہ اہل سنّت اور کرد بھی دھشتگردوں کے خلاف میدان میں کود پڑے ہیں اور سب کے سب قومی اتحاد و یکجہتی پر تاکید کے ساتھ ملک سے دھشتگرد گروہ داعش کا صفایا چاہتے ہیں۔ عوامی حمایت کے ساتھ عراق کی فوج کی بھر پور کاروائی نے موصل و کرکوک کے علاقوں سے دھشتگردوں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ سامرا شہر میں حضرت امام علی نقی علیہ السلام اور حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے حرم ہائے مقدس کی موجودگی کی وجہ سے اس شہر میں سیکیورٹی کے ہائی الرٹ انتظامات ہیں اور عوام کے مختلف گروہوں نے عراق کی فوج کی مدد سے ان مقدس مقامات کی حفاظت کی ذمہ داری خود سنبھال رکھی ہے۔ اگر چہ بعض ایسی بھی خبریں موجود ہیں کہ جس سے نشاندہی ہوتی ہے کہ دھشتگرد تکفیری گروہ داعش سامرا شہر میں ائمہ معصوم علیھم السلام کے حرم ہائے مقدس کی بے حرمتی کرنے کا پروگرام بنارہا ہے، لیکن اس شہر میں بھرپور عوامی مزحمت نے دھشتگردوں کو اس قسم کی گستاخی سے باز رکھا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں فوج اور عوام کے درمیان باہمی اتحاد و یکجہتی کی فضا کو برقرار کرنے میں عراق کے مراجع کرام نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ عراق کے بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ سیستانی نے عوام سے درخواست کی ہے کہ دھشتگرد گروہ داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے فوج کی بھرپور مدد کریں اور اس حساس دور میں باہمی اختلافات سے پرہیز کریں اور ملک کی ارضی حاکمیت کے تحفظ کی کوشش کریں۔ عراق کے اہل سنّت علماء کرام نے بھی دھشتگردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے عوام کے اتحاد اور باہمی یکجہتی کی ضرورت پر تاکید کی ہے اور ملک کے دفاع کو قومی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ عراق کے سیاسی ، مذھبی اور قومی گروہوں نے بھی باہمی اتحاد و یکجہتی اور ملک کے دفاع کی ضرورت پر تاکید کی ہے اور اپنے مختلف بیان دھشتگردوں کے ساتھ مقابلے کے لئے قومی اتحاد و وحدت کو کامیابی کی کنجی قرار دیا ہے۔ اگر چہ یہ ایک حقیقت ہے کہ عراق کو اس وقت ٹھوس خطرات کا سامنا ہے، لیکن دھشتگردی کے مقابلے کے لئے عوامی اتحاد اور فوج کے ساتھ عوام و قبائل کا بھر پور تعاون، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عراق میں موجود بعض اختلافات کے باوجود، اگر مسئلہ قوی مفادات کا آجائے تو عوام متحد ہوکر میدان میں آجاتے ہیں اور دھشتگردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے، ہتھیار اٹھالیتے ہیں، کیونکہ عراق کے عوام ملک کے دفاع کو اپنے اولین ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
.......
/169